مقررہ وقت سے صرف 20 سیکنڈ پہلے ٹرین روانہ ہونے پر جاپان نے عوام سے معافی مانگ کر دنیا بھر کو حیران کردیا، ٹرین لیٹ ہوجائے تو ڈرائیورز کو کیا کام کرنا پڑتا ہے؟ ایسی خبر آگئی کہ کئی پاکستانی دل پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

جاپانیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت ہی منظم قوم ہیں جو وقت کی پابندی کا بھی سب سے زیادہ خیال رکھتے ہیں، وقت کی اسی پابندی کا مظاہرہ ایک ریل کمپنی نے بھی کیا ہے جس نے ایک ٹرین کے مقررہ وقت سے صرف 20 سیکنڈز پہلے روانہ ہونے پر عوام سے معافی مانگ لی ہے، جاپان میں اگر ٹرین تاخیر کا شکار ہوجائے تو ڈرائیور ایک ایک شخص کے پاس جا کر ذاتی طور پر معافی مانگتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جاپان کی ایک ریل کمپنی نے اپنی ایک ٹرین کے 20 سیکنڈ جلدی روانہ ہونے پر عوام سے معافی مانگی ہے۔ٹوکیو اور سکوبہ شہر کے درمیان چلنے والی سکوبہ ایکسپریس لائن کی مینجمنٹ نے اس واقعے کے حوالے سے ’کسی بھی مشکل کے لیے‘ معافی مانگی ہے۔کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرین کا مقررہ وقت 9 بج کر 44 منٹ اور 40 سیکنڈ تھا لیکن ٹرین صرف 20 سیکنڈ پہلے یعنی 9 بج کر 44 منٹ اور 20 سیکنڈز پر روانہ ہوگئی ، جس کی وجہ سے کمپنی کو معافی مانگنا پڑ گئی۔
کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹرین 20 سیکنڈ جلدی اس لیے روانہ ہوئی کیونکہ کمپنی کے عملے نے ٹائم ٹیبل کو صحیح سے چیک نہیں کیا۔کمپنی نے اپنے بیان میں یہ بھی وضاحت کی ہے کہ کسی بھی صارف نے جلدی روانگی پر شکایت نہیں کی۔سکوبہ ایکسپریس لائن ٹوکیو کے مشرقی علاقے اقیہابراہ سے سکوبہ 45 منٹ میں لے کر جاتی ہے۔
کئی سو سال کے بعد طاعون کی وباءدنیا میں واپس لوٹ آئی، کس رفتار سے پھیل رہی ہے اور اب تک کتنے لوگ نشانہ بن گئے؟ جان کر ہر شہری کے ہوش اُڑجائیں
واضح رہے کہ جاپان میں وقت کی پابندی کا دوسرے تمام ممالک سے زیادہ خیال رکھا جاتا ہے اسی لیے یہ ملک ایٹم بم کے حملے کے باوجود انتہائی تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرگیا ہے۔ جاپانی اپنی ذات سے دوسرے کو کسی بھی قسم کی تکلیف نہ دینے پر یقین رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ٹرین معمولی سی بھی تاخیر کا شکار ہوجائے تو متعلقہ ٹرین کا ڈرائیور اپنی چھٹی کے دن ٹرین میں آتا ہے اور ایک ایک مسافر کے پاس جا کر ذاتی طور پر ان سے معافی طلب کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں