خادم رضوی جب دھرنا ختم کر کے اسلام آباد سے لاہور کیلئے روانہ ہوئے تو جی ٹی روڈ پر ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟بڑی بڑی سیاسی جماعتیں ہکا بکا رہ گئیں

تحریک لبیک کے امیر علامہ خادم رضوی اسلام آباد میں فوج کی ثالثی کے بعد طے پانے والے حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد دھرنا ختم کر کے لاہور روانہ ہو گئے تھے۔ اسلام آباد سے لاہور تککے سفر کے دوران جی ٹی روڈ سے ملحقہ علاقوں میں خادم رضوی کا فقید المثال اور پرجوش استقبال کیا گیا۔ خادم رضوی کے استقبال کیلئے تحریک لبیک کے کارکنوں کے علاوہ علمائے کرام اور مشائخ عظام کے ساتھ ساتھ عوام کا جم غفیر امڈ کر آگیا۔ مختلف مقامات پر اپنے لاہور تک کے سفر کے دوران علامہ خادم رضویے خطابات کئے جن میں انہوں نےکہا کہ لاکھوں جانثار اس قانون کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے،ختم نبوت کے معاملے کی طرف اب کوئی آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ خادم رضوی کا کہنا
رضوی کا کہنا تھا کہ حکومت نے فیض آباد دھرنے پر تاریخ کا بدترین تشدد کیا مگر کارکن ڈٹے رہے ۔
جو لوگ اس مشن میں قربان ہوئے ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ اس موقع پر پیر افضل قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو ججز فوج کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہے ہیں ان کو یہ باتیں زیب نہیں دیتیں، پاک فوج ایک مقدس ادارہ ہے ۔ حکومت معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے ہمارے گرفتار سینکڑوں گرفتار کارکنوں کو رہا کرے

loading...
>