کمپنی منیجرمعذور ہونے والے چوکیدار کی خوبصورت بیوی کو پیسے دینے کے بہانے بلاتا رہا اور اس کے ساتھ شرمناک کام کرتا رہا،پھر ایک دن

مکافات عمل کا درس دینے والا یہ واقعہ دراصل ان تمام افراد کےلئے خاصا سبق آموز ہے تو اپنی عیاش طبیعت اور لذت پرستی کی بھینٹ چڑھ کر کائنات کے نظام میں بے ترتیبی پید ا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ واقعات اور کردار بسا اوقات بدل بھی جاتے ہیں۔یہ شخص ایک کمپنی کا منیجر ہے جو اپنی آپ بیتی سنا رہا ہے۔کہتاہے کہ کمپنی کے چوکیدار کی بیوی میرے پاس اپنے خاوند کے پیسے لینے آئی تھی جن کا اعلان کمپنی نے اس وجہ سے کیا تھا کہ دوران ڈیوٹی اس کی ٹانگ میں گولی لگ گئی تھی اور وہ معذور ہو کر بستر پر جا لیٹا تھا۔ اور گھر کا نظام چلانا مشکل ہو گیاتھا۔ منیجر کا کہنا ہے کہ چوکیدار کی بیوی بڑی خوبصورت تھی۔ غریب تھی لیکن اس کی جسمانی وضع قطع کسی ماڈل سے کم نہیں تھی۔ میں نے ازراہ ہمدردی چوکیدار کو اس کی رقم دلوانے کےلئے کوشش کی تھی لیکن اس کی بیوی کو دیکھنے کے بعد میں نے
یہ رقم اپنے مخصوص انداز سے دلوانے کا ارادہ کرلیاتھا۔ جلد ہی میری نظروں اور ہاتھ کی حرکتوں سے وہ سمجھ گئی تھی کہ رقم حاصل کرنے کےلئے اسے کیا کرنا ہوگا۔اس لیے وہ آج آفس ٹائمنگ کے بعد یہاں آئی تھی اور میں اسے واش روم میں لے گیا تھا کیونکہ اس وقت آفس کا کوئی بھی آدمی موجود نہیں تھا۔ اس لیے میں انے اپنا کام آسانی سے سرانجام دے دیا تھا۔ وہ کپڑے پہنتے ہوئے کہنے لگی۔ تو پھر میں پیسے لینے کس دن آئوں صاحب؟ میں نے پینٹ اوپر چڑھاتے ہوئے جواب دیا ۔پیسوں کےلئےایک دو چکر لگانے پڑیں گے تمھیں مزید۔ اس پر وہ کچھ پریشان ہو کر کہنے لگی۔ ٹھیک ہے کہ میں کل دوبارہ آجائوں ؟ تو میں نے اسے کہا نہیں نہیں ۔ایک دو روز ٹھہر کر میں بتائوں گا پھر آنا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے میں چلتی ہوں۔ وہ جانے لگی تو میری نظر اس کی شلوار پر پڑی۔ میں نے جھٹ سے اسے روکا۔۔ارے ارے سنو ۔شلوار الٹی پہنی ہوئی ہے اسے تو سیدھا کر لو۔ اس نے شلوار دیکھی تو اوہ کہہ کر جلدی سے اسے سیدھا کرکے پہنا اور چلی گئی۔ میری بیوی بھی ایک قریبی آفس میں کلرک تھی۔ میں نے اسے فون کیا کہ اگر چھٹی ہوگئی ہے تو میں تمھیں خود لینے آجاتا ہوں ۔ تو اس نے کہا کہ نہیں آپ آفس مت آنا ۔ مین روڈ پر دس منٹ انتظار کرنا میں وہیں آجائوں گی۔تھوڑا سا کام کررہی ہوں۔ میں موٹر بائیک لے گیااور روڈ پر انتظار کرنے لگا۔ پندرہ منٹ بعد بیگم د ور سے مسکراتی ہوئی آتی دکھائی دی۔ میرے دل میں ایک تکلیف کی ٹیس اٹھی کہ مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ اور میں کتنی بے دردی سے اسے دھوکا دے رہاہوں۔ وہ پا س آئی اور کہنے لگی۔پتہ ہے منیجر میرے کام سے بہت خوش ہے۔کہتا ہے دو ایک مہینے میں مجھے پروموٹ کر دے گا۔ اکائونٹس میں ہم پانچ لوگ ہیں۔ لیکن وہ صرف میرے کام کوہی اپ ٹو ڈیٹ سمجھتا ہے۔ تنخواہ بھی بڑھا دے گا۔وہ اپنی کامیابیوں کا ذکر کررہی تھی اور میں تعریفی انداز میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کہ اچانک مجھ پر کئی ہزارٹن وزنی پہاڑ گر گیا۔ مجھ پر آسمانی بجلی ٹوٹ پڑی۔میں ریزہ ریزہ ہو گیا۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا ۔مجھے لگا میں مر گیا۔کیونکہ میری نظر اس کی شلوار پر پڑی جو الٹی پہنی ہوئی تھی۔

loading...
>