اذان سے ہمارے برتن ناپاک ہوتے ہیں

رنجیت سنگھ کے زمانے میں ، پنجاب پر سکھوں کی حکومت تھی، رنجیت سنگھ جنگجو طبعیت کا مالک تھا، ۔ یہ واقعہ رنجیت سنگھ کے زمانے کا ہے۔سکھ اکٹھے ہوکر رنجیت سنگھ کے دربار میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مسلمان جو صبح کو اذان دیتے ہیں، اس سے ہمارے برتن ناپاک ہوتے ہیں، مسلمانوں کو ایسا کرنے سے روکا جائے۔رنجیت سنگھ نے ایک انوکھا تاریخی حکم دیا کہ مسلمانوں کو ایسا کرنے سے
روکا جاتا ہے اور جتنے سکھ یہ شکایت لے کر آئے ہیں ان کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے کہ وہ صبح جس وقت اذان ہوتی ہے، اس سے پہلے ہر مسلمان کے گھر جائیں اور اسے بتائیں کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے۔ سکھوں پر تو جیسے قیامٹ ٹوٹ پڑی روزانہ ان کو مشقت کرنی پڑتی، نمازیوں کی تعداد مساجد میں بہت زیادہ ہوگئی۔ کچھ دنوں بعد ان سکھوں نے ہاتھ جوڑ لیے، رنجیت سنگھ سے کہا کہ آپ اپنا حکم واپس لیں، مسلمانوں کو اذان دینے دیں، اب برتن ناپاک نہیں ہونگے۔
سقراط کے مطابق کامیابی کا راز
ایک دفعہ ایک آدمی سقراط کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ مجھے کامیابی کا راز بتائیں۔ سقراط نے اس کو کہا کہ میرے ساتھ ندی کے کنارے چلو۔ دونوں جب ندی کے پاس پہنچے تو سقراط نے اسے بولا کہ میرے ساتھ اس ندی میں اتر جاؤ۔وہ شخص تھوڑا ہچکچایا لیکن اس کے ساتھ ندی کے اندر چلتا گیا۔ جب وہ اتنا آگے بڑھ گئے کہ ندی کا پانی ان کی گردن تک پہنچنے لگا تو سقراط نے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔وہ آدمی جیسے ہی رکا سقراط نے اسے جکڑ لیا اور پوری طاقت کے ساتھ اس
کو پانی میں غوطا دیا۔ وہ آدمی خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگا۔سقراط ایک بہت قوی انسان تھا اس نے تھوڑا سا زور اور لگایا اور وہ آدمی پانی میں ڈوبا رہا۔جب تھوڑا وقت گزر گیا اور وہ آدمی نیلا پڑنے لگا تو سقراط نے اسے کھینچ کر پانی سے باہر نکال لیا۔ اس نے باہر نکلتے ہی بہت لمبی اور گہری سانس لی اور خود کو سنبھالنے لگا۔جب وہ قدرے سنبھل گیا تو سقراط نے اس سے پوچھا کہ جب تم پانی کے اندر تھے تو تمہیں سب سے زیادہ شدت سے کیا چیز چاہیے تھی؟ وہ شخص بولا کہ ہوا۔مجھے ہوا چاہیے تھی۔ سقراط نے اسے بولا کہ تمہیں اتنی شدت سے ہوا درکار تھی تو تمہیں وہ مل گئی۔
کامیابی کا راز صرف یہ ہے کہ کسی بھی چیز کو شدت سے چاہو۔ جب تمہیں کامیابی اتنی شدت سے درکار ہو گی جتنی تمہیں ہوا چاہیے تھی تو کامیابی تمہارا مقدر بن جائے گی۔ انسان جب کسی بھی چیز کو اتنی لگن اور سچے دل سے مانگے کہ اس کے لیے اسے آگ لگی ہوئی ہو تو وہ اپنا ہدف پا لیتا ہے۔نپولین ہل نے ایک بار بڑی حکمت کی بات بولی تھی کہ جو ایک انسان کا دماغ سمجھ لے اور اس پر پختہ یقین کر لے۔۔۔اس چیز کو وہ با آسانی حاسل کر سکتا ہے۔ آپ کی کامیابی کی پہلی سیڑھی کسی شے کو اتنی شدت سے چاہنا ہےکہ اس کے لیے آپ کے دل میں بھڑکتی ہوئی خواہش ہو۔ جیسے ایک چھوٹی سی آگ پور ے ماحول کو تپش فراہم نہیں کر سکتی بالکل اسی طرح کسی شے کی ناقص خواہش سے اس کو کبھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
حاصل سبق یہ ہے کہ انسان کی کامیابی کا راز سقراط کے مطابق اس کو پانے کی اتنی شدید تمنا ہے کہ آپ کو لگے کہ اس کے بغیر آپ جی نہیں سکتے۔ جب آپ پورے دل سے کچھ بھی لینا چاہتےہو تو آپ اس کو لے کر ہی دم لیتے ہو۔اپنے اندر پختہ ارادیت پیدا کریں اور پہچاننے کی کوشش کریں کہ آپ کو کیا شے خوشی دیتی ہے۔ پھر اس کے پیچھے پڑ جائیں اور چاہے جتنی بھی ناکامیاں دیکھنی پڑیں اس کا تعقب کرنا مت چھوڑیں۔ سقراط اپنے دور کا بہت پہنچا ہوا فلسفی تھا اور اس کی سنہری باتیں آج بھی لوگوں کو روشنی دکھاتی ہیں۔اگر وہ یہ کہتا ہے تو اس کی بات کو معمولی مت سمجھیں۔ یہ تو ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ جب تہہ دل سے کسی چیز کو مانگو تو ساری کائناتاسے تم تک پہنچانے میں جت جاتی ہے۔

loading...
>