بچہ

آج صبح ہی پولس آئی اور انکوائری کر کے سڑک کے کنارے پتلے کپڑے میں لپٹے نوزائیدہ بچہ کو پولس اسٹیشن لے جا کر انسپکٹر کے سامنے حاضر کر دیا۔صاحب یہ بچہ سڑک کے کنارے پڑا ملا ہے۔پوچھ تاچھ کی ہے؟” سر یہ بچہ دیپا نام کی لڑکی کا ہے۔بچے کے سینے پر سفید داغ ہے اور۔۔۔ بس بس۔خاموش ہو جاؤ تم جا سکتے ہو۔انسپکٹر کا سر چکرا گیا۔ وہ کسی پاگل کی طرح ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اور پھر ایک لمحہ بعد اپنی حالت پر قابو پا کر وہ شرٹ کا بٹن لگا رہا تھا
تا کہ کوئی اسکے سینے کا سفید داغ نہ دیکھ لے۔خوشی کسے کہتے ہیں؟جیورج سینڈ کہتا تھا کہ دنیا میں اصل خوشی صرف پیارکرنے اور کسی کے آپ سے پیار کرنے میں ہے۔ جیک براؤن کہتا تھا کہ اصل خوشی اس کو خوش رکھنے خوش رکھنے میں ہے جو آپ کو پسند ہو۔ عمر خیام کہتا تھا کہ آج اور ابھی اس پل میں خوش رہو کیونکہ یہ پل ہی تمہاری زندگی ہے۔ فرینکلن رووزولٹ کہتا تھا کہ انسان کو محنت اور تخلیقی کام کر کے اس کے پھل سے خوشی ملتی ہے۔ گاندھی کا موئقف تھا کہ جب انسان کا عمل اسکی زبان اور اس کی سوچ ایک ہی ہو تو وہ پرسکون رہتا ہے۔ ویلری کہتی تھی کہ انسان کی زندگی خوشی اور غم دونوں سے عبارت ہے۔البتہ کوئی خوش ہو یا پریشان یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہر انسان کو غم جھیلنے پڑتے ہیں مگر وہ ان کا رد عمل کیا ظاہرکرتا ہے اس پر اس کا اپنا اختیار ہوتا ہے۔ چارلز سپر جن کہتا تھا کہ تمہارے اثاثے کتنے زیادہ ہیں یہ تمہاری خوشی کی بے بنیاد وجہ ہے، ہاں تم ان سے کتنا لطف اندوز ہو تے ہو، یہ بتاتا ہے کہ تم کتنا خوش ہو۔ ایلبرٹ شوائیٹزر کہتا تھا کہ اچھی صحت اور بری یاد داشت انسان کو خوش رکھتے ہیں۔ جیمز فاسٹ
کہتا تھا کہ جس کا دل شکر گزار ہو ، وہ ہر حال میں خوش رہتا ہے۔ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور اسی لیے وہ عاجزی اور انکساری کی طرف مائل رہتا ہے۔ شیرون ڈریپر کہتی تھی
کہ خوشی بہت چھوٹی چیزوں میں ہوتی ہے اور یہ بہت قلیل لمحوں کا احساس ہوتا ہے۔ جیسے طلوع آفتاب، کسی چھوٹے بچے کا قہقہ اور پہلی برف باری۔دلائی لامہ کہتا تھا کہ خوشی کسی کو پلیٹ پر بنی بنائی نہیں ملتی۔ انسان کو محنت سے اپنے لیے خوشی بنانی پڑتی ہے۔ٹیلر سوفٹ کہتی ہے کہ سرخ رنگ کتنا دلچسپ ہوتا ہے۔ ایک طرف یہ خوشی، امید اور محبت کا علمبردار ہے تو دوسری طرف یہی رنگ غصے، آگ اور حسد کا نشان ہے۔ ایلز بتھ اولسن کے مطابق اچھا اور خوش ذائقہ کھانا اس کو بہت محظوظ کرتا تھا۔
لیڈیا کہتی تھی کہ کسی اور کی مدد کر کے ، اس کی مشکل حل کر کے ایسی خوشی ملتی ہے جو ہماری اپنی خوشی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ایمبر رائیلی کہتی تھی کہ جو انسان سچا ہو اور سچ اور لگن سے سب کچھ کرے وہ ہمیشہ خوش رہتا ہے۔امینو ایل کینٹ کہتا تھا کہ ہمیشہ صحیح کام کرو، ہر ایک کے ساتھ مخلص رہو کیونکہ اس سے ضروری نہیں کہ تمہیں خوشیاں نصیب ہو جائیں مگر تم اس کے حق دار ضرور بن جاؤ گے اور یہی در اصل اہم ہے کہ تم خوش رہنے کے مستحق ہو۔
جاہن گارڈن کے مطابق جب انسان اپنی پوری طاقت ، قوت اور صلاحیت استعمال کرتا رہتا ہے تو وہ خوش رہتا ہے۔ جارج واشنگٹن کہتا تھا کہ کبھی غلط کام اور اصلی خوشی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔اصلی خوشی صرف ٹھیک حرکتوں اور فیصلوں سے ملتی ہے۔ انجام سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میلکوم فوربز بہت اچھی بات کرتا ہے کہ جب ہم وہ بن جاتے ہیں جو ہم ہمیشہ سے بننا چاہتے تھے تو ہم اصل میں خوش ہوتے ہیں۔فریڈرک شیلر نے بالکل ٹھیک بولا ہے کہ انسان خوش رہنا تب سیکھتا ہے
جب وہ ان لوگوں اور حالات کو برداشت کرنا سیکھ جاتا ہے جنہیں وہ بدل نہیں سکتا۔مارکس سیڈ کہتا ہے کہ خوشی کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے یہ سب دماغ کی خرافات ہیں۔سگمنڈ فرو ئیڈ کہتا ہے کہ خوشی ایک احساس ہے جو انسان کی دیرینہ خواہشات پوری ہونے پر اس کو محسوس ہوتا ہے۔ حاصل سبق یہ ہے کہ خوشی ایک احساس ہے جو انسان کو تھوڑی دیر ہوا میں اڑنے کے مترادف محسوس ہوتا ہے لیکن یہ ایک دماغی خرافات ہے۔ اگر انسان اپنی خواہشات کو ہی محدود کر دے
تو اس کی کونسی خواہش اس کو خوشی دے سکتی ہے۔انسان اس سراب کے پیچھے مفت میں دوڑتا رہتا ہے۔ خوشی کا اصل میں کوئی وجود نہیں ہے ہاں لیکن کسی اور کی مدد کرنے سے انسان کو سکون ملتا ہے۔ خوشی کا حقدار بننے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے کیونکہ جو بے چارہ ساری عمر اوروں کے ساتھ مخلصی روا رکھتا ہے باقی اس کے ساتھ بے ایمانی بھی کریں تو اس کو خود اپنا آپ پسند ہوتا ہے۔ اور دنیا میں تقریباً ننانوے فیصد لوگوں کی خوشی دنیا کے لوگوں کے اس کو قبول کرنے، اسے عزت دینے اور اس کی واہ واہ کرنے میں ہے۔ تو خوشی دماغ کی خرافات کو کہتے ہیں۔

loading...
>