دوزخی

غزوہ احد میں ایک شخص بڑی بے جگری سے لڑ رہا تھا‘ سو سے زائد زخم اس کو لگ چکے تھے‘ تمام صحابہؓ اس کی بہادری پر حیران تھے اور رشک کر رہے تھے‘ اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کو دیکھ رہے تھے‘ آپ نے تھوڑی دیر اس کو دیکھنے کے بعد فرمایا ‘ یہ دوزخی ہے‘ حالانکہ وہ جہاد کر رہا تھا‘ ایک صحابیؓ ان کے ساتھ ساتھ لگ گئے کہ جب کملی والے کی زبان مبارک سے یہ بات ادا ہوئی ہے تو کیا بات ہے کہ اس کو آپ دوزخی فرما رہے
ہیں‘ اس نے تو سو پچاس کافروں کو قتل کر دیا ہے‘ تو قریب ہو کر پوچھا کہ تم اتنی دلیریاور بے جگری سے کیوں لڑ رہے ہو‘ کیا خاص بات ہے؟ اس نے کہا‘ یہ بات نہیں ہے‘ میں اپنے خاندان کے نام ونمود کےلئے لڑ رہا ہوں‘ خاندانی شجاعت اور بہادری جو ہم میں موجود ہے اس کے نام کو زندہ رکھنے کےلئے لڑ رہا ہوں۔ پہلی بات یہ ہے کہ وہ جہاد کے حصہ دار ہی نہیں تھے‘ جہاد تو اللہ تعالیٰ کےلئے ہوتا ہے اور پھر اس شخص کو جب زیادہ زخم آئے تو اس نے اپنی تلوار کا دستہ پیروں میں رکھ کر تلوار کی نوک سینی پر رکھی اور دباﺅ ڈال کر خودکشی کر لی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک پورا ہوا کہ یہ دوزخی ہے‘ خودکشی کرنے والا دوزخی ہے۔

loading...
>