حسد یا رشک

کچھ چیزوں کا فرق سمجھنا خود کے لیے بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔ انسان ایک پیچیدہ دماغ کے ساتھ چیزوں کو سمجھتا اور دیکھتا ہے ۔ ایک چھوٹی سی کہانی میں آپ کو سننانے کے لیے آج نیند کی شدت کے باوجود یہاں بیٹھی ہوں ۔اس کا مقصد فقط اِتنا ہے کہ شاہد کو انسان اپنی محسوسات کو یہ کہانی پڑھنے کے بعد ذیادہ بہتر طور پر سمجھ سکے۔ ایک چھوٹا سا انگن ،دو بچے صحن میں کھیل رہے ہیں ۔ حسن رضا ۔ علی رضا ۔ امی کی آواز پر باغ کر باورچی خانے میں جاتے ہیں ۔دونوں کی
ایک ،منزل ایک مقصد ایک ہے ۔ دونوں ہی پہلے ماں کے پاس پہنچنا چاہتے ہیں جو دودھ کے دو گلاس اورایک ہی پلیٹ میں رس رکھے انتظار کر رہی ہو گی۔ علی رضا پتلا اور چست جسم کا مالک ہے اپنے بڑے بھائی سے ہر کام میں آگے ۔جب کہ علی رضا تھوڑا موٹا ،سست اور کچھ کام چور بھی ہے۔وقت اپنی رفتار سے چلتا جاتا ہے بچے جوان ہو چکے ہیں۔ منزل اب کامیابی اور ترقی ہے ۔اب دونوں بھائیوں میں بظاہر کوئی مقابلہ نہیں ۔ انہیں زندگی کی ریس میں جیتنا ہے۔ حسن رضا نے میٹرک کے بعد پڑھائی چھوڑ دی ،وہ گاڑیوں کی مرمت کا کام سیکھنے لگا ۔علی رضا پڑھائی میں اچھا تھا تو اس نے تعلیم جاری رکھی۔ حسن کو ہر کوئی ان پڑھ ہونے کا طعنہ دیتا ،وہ ہنسی میں ٹال جاتا۔ اس کے ماں باپ بھی اسے علی کی مثالیں دیتے ۔ کیسے چھوٹا ہو کر کامیابی کی طرف جا رہا ہے۔ علی رضا دل ہی دل میں خود کو بہت قابل سمجھتا۔ حسن کو بڑا بھائی ہونے کی وجہ سے عزت دینا تو در کنار وہ اسے قابل رحم سمجھتا ۔ اس کی ماں جب اس کے پاس بیٹھتی تو اکثر اسے کہتی جب تو افسر بن جائے گا تو اپنے بڑے بھائی کا ہمیشہ خیال رکھنا ۔ اسے مالی امداد ضرور دیتے رہنا ۔وہ تمہارا بھائی ہے ،کبھی نہ بولنا تو امی سے بڑے فخر سے کہتا ، کیوں نہیں امی بھائی، بھائی کی مدد نہیں کرئے گا تو کون کرے گا میں ذراکسی قابل ہو جاوں تو ضرور اس کی مدد کروں گا۔حسن رضا کو کبھی کبھی سب کی سوچ پر دُکھ ہوتا ۔وہ اگرچہ ذیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا لیکن وہ کسی پر بوجھ بھی نہیں تھا ۔ وہ ماہر میکینک بن چکا تھا ۔ہر گاڑی کے ٹھیک کرنے پر معاوضہ کا تیسرا حصہ اسے ملتا تھا ،جبکہ دو حصے دوکان کا مالک گلزاررکھ لیتا تھا۔ پیسے وہ ایک ڈبہ میں ڈال دیتے او مہینے کے آخر میں جتنے پیسے نکلتے ان میں سے تیسرا حصہ حسن کو مل جاتا۔وہ دو ہزار روپے اپنے پاس رکھ کر مہنے میں جو بھی کماتا اپنی ماں کے ہاتھ میں لا کر دے دیتا۔والد صاحب کے ریٹائر ہونے کے بعد سے گھر کا خرچہ اور علی کی تعلیم اسی کے پیسوں سے چل رہی تھی ۔حسن کے والد ایک کلرک تھے۔ انہیں دو ہزار پنشن ملتی تھی۔ حسن نے کبھی بھی گھر والوں کی باتوں کا جواب نہیں دیا ۔ نہ ہی اس نے علی کی کڑوی باتوں پر کچھ کہا۔ علی ہمیشہ اسے کہتا ۔ اگر تم کچھ پڑھ لکھ جاتے تو یوں گاڑی کے نیچے نہیں گاڑی کے اندر ہوتے۔ حسن مسکرا کر کہتا تو میں چلا لیتا ہوں گاڑی بس لائسنس ہی تو نہیں ہے میرے پاس۔ وہ جب تم افسر بن جاوگے تو خرید دینا ۔ اس کی بات علی سن کر فخر سے مسکراتا اور کہتا ۔ہاں ہاں کیوں نہیں ۔اللہ اللہ کر کے وہ دن بھی آ گیا جب علی کا رذلٹ آیا اور اس نے ایم کام مکمل کر لیا۔ اب وہ روز نوکری کے لیے جاتا اور مایوسی سے واپس آ جاتا۔دن گزرتے گئے سال ہو چکا تھا۔ علی رضا کو کوئی نوکری نہیں مل رہی تھی۔ دونوں بھائی بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ امی نے دھیرے سے کہا۔ تعلیم پر اتنا پیسہ خرچ کرنے سے اچھا تھا تو بھی میکینک ہی بن جاتا ۔کم سے کم اپنی روٹی کے توقابل ہو جاتا۔ علی کو امی کی بات پر بہت غصہ آیا ۔اسے تو بس اپنے بھائی ہی کی بے عزتی سننے کی عادت تھی ۔ حسن کی مسکراہٹ اسے اپنے زخم پر نمک کی طرح محسوس ہوئی۔ وہ غصہ سے چلایا۔ نوکری ڈھونڈ تو رہا ہوں ۔نہیں مل رہی تو کیا مر جاوں ۔اس کی ماں کو بھی غصہ آیا ۔وہ بلند آواز میں بولی ۔میں حسن کی شادی کا سوچ رہی ہوں ۔آخر کب تک وہ ہم سب کو پالتا رہے گا ۔ کچھ بھی کرو ،اپنا خرچہ خود اُٹھاو۔تعلیم دیلا کر اس نے اپنے بڑے ہونے کا فرض پورا کر دیا ہے۔ علی کو پہلی دفعہ محسوس ہوا جس تعلیم پر وہ اِتراتا تھا اس تعلیم کے پودے کو پانی اور کھاد تو حسن ہی دے رہا تھا۔ وہ جس کو اپنے سے کم تر سمجھ رہا تھا وہ تو اصل میں کم تر تھا ہی نہیں ۔ اس رات علی کوخود پر ندامت محسوس ہوئی۔ خدا کی کرنی دوسرے دن اسے ایک جگہ سے جہاں اس نے انٹرویو دیا تھا کال آ گئی ۔ اسے اچھی نوکری مل گئی۔بس اس میں خرابی یہ تھی ،کہ انہوں نے جو ایگریمنٹ کروایا تھا اس میں صاف الفاظ میں کہہ دیا گیا تھا کہ کمپنی ملازم کو بغیر کی نوٹس کے جب چائے ملازمت سے نکال سکتی ہے۔علی نے ہر شرط مان لینے میں ہی بہتری سمجھی۔ اس دن جب وہ مٹھائی کا ڈبہ لے کر گھر آیا تو سب سے پہلے حسن کو مٹھائی کھلائی۔اس نے فخریہ انداز میں کہا دیکھنا جتنا تم نے مجھ پر خرچ کیا ہے میں تم پر اس سے کہیں ذیادہ خرچ کروں گا۔ حسن پھر معمول کے مطابق مسکرا دیا۔ دھیرے سے بولا یار بھائیوں میں یہ جمع تفریق نہیں ہوتی۔ذیادہ کم کچھ نہیں ہوتا ۔جس کو جو توفیق ہو وہ کر دینا چاہیے۔حسن کے لیے جب حسن کی امی نے اپنی بہین سے بات کی تو انہوں نے علی کے لیے اپنی بیٹی کو دینے کی پیشکش کی ۔ حسن کی امی کو بُرا تو لگا لیکن اکلوتی بہن کی بیٹی کو وہ ہر صورت اپنے گھر لانا چاہتی تھیں۔ ستارہ تھی بھی اس قدر خوبصورت اور ذہین کہ کوئی بھی اسے اپنی بہو بنانے کا خواہش مند ہوتا ۔ اس نے بی ۔اے کا امتحان دیا تھا۔ حسن کی خالہ نے یہ جواز رکھا کہ ستارہ پڑھی لکھی ہے ،حسن کے ساتھ اس کا جوڑ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی اور ستارہ کی شادی ہو گئی ۔ حسن کے لیے بھی اس کی ماں کوئی مناسب لڑکی ڈھونڈ رہی تھی۔ علی اور ستارہ کو حسن نے تحفہ کے طور پر دس ہزار روپے دیے تو علی نے تمسخر خیز لہجے میں کہا۔اتنے پیسوں میں کیا ملتا ہے۔تم نے یہ بھی دینے کا سوچا بڑی بات ہے۔مزدور کی مزدوری اتنی ہی ہو گی ۔ مگر ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔سنبھال کر رکھو۔ شادی اگر ہو گئی تو کام دیں گئے۔ حسن کو علی کی باتیں اچھی نہ لگی لیکن حسب عادت اس نے ایک مسکراہٹ چہرے پر لا کر بات ختم کر دی ۔وہ دس ہزار جیب میں ڈالے ۔اچانک سے دوکان کے مالک کا فون آ گیا تو حسن ۔نہ چاہتے ہوئے بھی کام کے لیے دوکان چلا گیا۔ وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ گلزارنے کام کے لیے نہیں بلایا تھا ۔ گلزار نہ صرف اس کا استاد تھا بلکہ اس سے حسن کی اچھی دوستی ہو چکی تھی۔وہ کبھی حسن سے گاڑی ٹھیک نہیں کرواتا نہ ہی اس کی دوکان پر جاتا۔علی اور ستارہ کا مزاج نہیں ملتا تھا۔ علی خود کو عقل کل سمجھتا جبکہ ستارہ خود کو اس کے برابر قرار دیتی۔ علی اسے برابری دینے کے حق میں نہ تھا۔ نتیجتاً ہر روز لڑائی معمول تھی۔حسن حسب معمول دوکان میں کام کر رہا تھا کہ دوکان کے مالک نے قریب آ کر اسے پرائز بونڈ دیے جو دس ہزار کی مالیت کے تھے اور بولا۔میں نے بھی تمہاری طرح کسی کی مدد کی تھی اس نے چالیس ہزار کے پرائز بونڈ ہی دیے ہیں ۔ یار ممکن ہیں نکل آئیں۔یہ سوچ کر میں نے گھر رکھ لیے اور تمہارے لیے بھی یہی لے آیا ۔ پندرہ دن بعد اگر نہ نکلے تو بینک میں دے کر پیسے لے لینا ۔اگر ضرورت نہ سمجھو تو پڑے رہنے دو شاہد کبھی نکل آئیں ۔حسن مسکرایا۔ پرائز بونڈ اور میرا نکلے گا۔ وہ مسکرایا۔ اس نے پرائز بونڈ لے کر جیب میں رکھ لیے۔گھر واپس آ کر اپنے کمرے میں پڑی پرانی الماری کھولی جو علی کے کمرے سے نکال کر اسے دے دی گئی تھی ۔تا کہ ستارہ کے جہز کا سامان علی کے کمرے میں سما سکے۔پرائز بونڈ رکھنے کے بعد وہ چارپائی پر چیت لیٹ گیا۔ چلتے ہوئے پنکھے کو گھورنے لگا جو خراماں خراماں چل رہا تھا ۔ کچھ دیر بعد اس کی ماں کمرے میں داخل ہوئی۔حسن بیٹا ،حسن اُٹھ کر بیٹھ گیا۔جی امی۔ وہ کچھ افسردگی سے بولیں ۔علی اور ستارہ کا کل رات جو جھگڑا ہوا ،ستارہ میکے چلی گئی ہے ۔ تم علی کو سمجھاو نا۔ وہ اُسے واپس لے آئے۔ ستارہ کا کہنا ہے ،جب تک علی معافی نہیں مانگے گا وہ واپس نہیں آئے گئی ۔ کل رات علی نے اس پر ہاتھ اُٹھا یا۔ بھلا ایسے بھی کوئی کرتا ہے ،دونوں پڑھے لکھے سمجھدار ہیں ۔ حسن نے امی کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھا اور بولا۔ اچھا امی آپ پریشان نہ ہوں۔ میں علی سے بات کروں گا۔مگر آپ نے خالہ سے بات کی ،آخر علی نے ہاتھ کیوں اُٹھایا۔حسن کی طرف دیکھتے ہوئے وہ بولیں ۔وہ بیٹا ،ستارہ نے علی سے کہا کہ تم اس سے ذیادہ بہتر اور سمجھدار ہو ۔ بات جیت کرنا اور رشتے نبھانا تمہیں اس سے ذیادہ آتا ہے ۔ کاش اس نے تم سے شادی کی ہوتی۔ حسن نے حیرت بھری نظروں نے امی کی طرف دیکھا۔ مجھ سے ۔اس نے دھیرے سے کہا۔ ہاں حسن تم سے۔ امی نے تصدیق کی۔علی کو غصہ نہیں آتا ۔ مرد کہاں برداشت کرتا ہے ،اپنی بیوی کے منہ سے کسی اور کی تعریف اور وہ بھی ایسی۔ حسن نے اپنی ماں کو افسردگی سے دیکھا ۔ جی امی یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔مگر ایسی صورت میں مجھے علی سے ستارہ کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے۔ ممکن ہے اسے مذید غصہ آئے ۔ حسن کی امی نے لجاحت سے کہا تم نہیں کرو گئے تو کون کرئے گا۔ مجھے تو وہ اس کا حمائتی کہتا ہے۔حسن اچھا امی میں بات کرتا ہوں۔شام کو جب علی واپس آیا تو حسن اس کے کمرے میں گیا۔ حسب معمول اس کا حال پوچھا۔ علی نے کچھ کٹتے ہوئے لہجے میں کہا۔تم یہاں جس کے لیے آئے ہو وہ تو گئی۔ حسن کو اس کی بات بہت تکلیف دہ لگی۔ حسن نے بیزاری کے لہجے میں کہا ۔ میں تمہارے لیے آیا تھا۔ امی نے کہا کہ میں تمہیں سمجھاوں ۔اپنا گھر برباد نہ کرو ۔ میاں بیوی میں ان بن ہو جاتی ہے۔ جا کر ستارہ کو لے آو۔ علی نے غصے سے چیختے ہوئے کہا تا کہ تم دونوں کا عشق چلتا رہے۔ میں نے طلاق بھیج دی ہے اسے ۔اب تم شادی کر لینا۔حسن کو پہلی دفعہ علی پر اس قدر غصہ آیا کہ وہ مذید بات کیے بغیر کمرے سے باہر نکل گیا۔حسن اپنے کمرے میں آ کر چارپائی پر بیٹھا ہی تھا کہ اس کی ماں کمرے میں داخل ہوئی ۔ حسن کیا بات ہوئی ۔علی سے ۔وہ جائے گا نا ستارہ کو لینے کے لیے۔حسن نے اپنی انکھوں کے آنسو چھپانے کی کوشش کی ۔ نہیں امی ۔ اس نے ستارہ کو طلاق دے دی۔حسن کی امی نے سینہ پیٹتے ہوئے رونا شروع کر دیا۔ ہائے میری اکلوتی بھانجی۔ہائے میری ستارہ۔ یہ کیا کیا!بے وقوف نے ہائے۔اب کیا کروں گی میں ۔میری اکلوتی بہین ۔ہائے۔حسن اس قدر دُکھی تھا کہ اس میں ماں کا غم بانٹنے کی سکت نہ تھی ۔ وہ اُٹھا اور گھر سے بایر چلا گیا۔دکان پر پہنچا تو ایک آدمی بہت جلدی گاڑی ٹھیک کروانا چاہ رہا تھا۔حسن نے منع کیا تو وہ بولا ۔یار میرےبھائی میری مدد کر دو ۔میرا بھائی دبئی جا رہا ہے ۔مجھے اس کی مدد کرنی ہے۔یہ گاڑی بیچنی ہے ۔ اچانک سے خراب ہو گی۔حسن کو یاد آیا کہ کس طرح ہر بار اس نے علی کی مدد کی تھی ۔مگر چونکہ اس کی مدد بلا واسطہ نہ تھی ۔امی کے ذریعے سے تھی تو علی کو کچھ احساس نہ تھا ۔پچھلے بیس سال سے وہ تمام کمائی اپنے گھر والوں پر خرچ کر رہا تھا۔اپنے پاس صرف جیب خرچ ہی رکھتا تھا۔ اس کے پاس کوئی جمع پونجی نہ تھی سوائے ان دس ہزار روپے کہ جو اس نے اپنے جیب خرچ سے تھوڑے تھوڑے کر کے جوڑے تھے۔وہ بھی اس نے علی کی نذد کرنے چاہئے تھے۔ حسن نے افسردگی بھری نگاہ اپنے جیسے اس بھائی پر ڈالی جو اپنے بھائی کے لیے فکر مند تھا۔حسن نے کہا آپ چھوڑ جاو۔ کل تک ٹھیک کر دوں گا۔وہ نہیں مانا ۔ بولا۔ آپ مرمت کی قیمت ڈبل لے لینا لیکن یہ مجھے ابھی ٹھیک کروانی ہے ۔ رات آٹھ بجے یہ گاڑی مجھے اس کے نئے مالک کو دینی ہے۔ وہ پہلے دیکھ چکا ہے ۔ آج آٹھ بجے اس نے مجھے رقم دینی تھی ۔ وہ خود چیک کرے گا یا کسی میکینک کو چیک کروائے گا تو یہ ٹھیک ہونی چائیے۔ حسن نے گاڑی دیکھی اس میں تھوڑا سا کام تھا۔ اس نے گھڑی دیکھی اور بولا ۔ آٹھ بجے سے پہلے ٹھیک ہو جائے گی۔ اس کی مزدوری تین ہزار بنے گی۔وہ خوشی سے تیار ہو گیا۔تم چار لے لینا بھائی مگر گاڑی کو جب وہ لوگ چیک کریں تو کوئی نقص نہیں ہونا چاہیے۔حسن مسکرایا۔ ایسا ہی ہو گا۔ کام بھی کیا غضب کی چیز ہے ۔انسان جب مکمل دماغ کام میں لگا دے تو جذبات سارے ہوا ہو جاتے ہیں ۔حسن گاڑی کی مرمت میں مصروف ہوا تو اسے بھی گھر اور امی سب بھول گئے۔ اس کا دھیان گاڑی کی مرمت پر تھا۔ اسے اپنا کام جی جان سے پسند تھا۔حسن جب گلزار سے کام سیکھنے کے لیے آیا تھا تو گلزار نے اس سے پوچھا تھا کہ وہ گاڑیوں کا کام ہی کیوں سیکھنا چاہ رہا ہے تو حسن جو صرف سولہ سال کا تھا ،بڑے جوش سے بولا تھا۔ میں اپنی دوکان بناوں گا۔ جہاں گاڑیوں کی مرمت کا کام ہو اور صاف صفائی بھی ہو۔ مجھے گاڑیوں کو ٹھیک حالت میں دیکھنا پسند ہے ۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ایک گاڑی کو کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے اور اس میں نقص کیا کیا ہوتے ہیں ۔ گلزار اس کی لمبی چوڑی تقریر پر ہنسا اور بولا۔ بس کرو بس ۔کام تو میں تمہیں سیکھا دوں گا۔ لیکن جو خواب تم دیکھ رہے ہو ۔اس زندگی میں ایک میکینک کے پورے ہونا مشکل ہیں ۔گلزار پچیس سال کا نوجوان تھا ۔جس نے اپنے باپ سے گاڑی کی مرمت کا کام سیکھا تھا۔ یہ دوکان اسے وراثت میں ملی تھی ۔حسن نے گاڑی بلکل ٹھیک کر دی۔ اس دوکان میں گاڑیوں کو دھونے کا انتظام نہ تھا۔حسن نے گلزار سے بات کی کیوں نہ کام کو بڑھا لیا جائے۔ گلزار نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس کے پاس کوئی خاص جمع پونجی نہیں ہے۔ پانی کی لائن لگوانا مشکل ہو گا۔ علی نے ستارہ کو طلاق دے دی تھی ۔ جہز کا سامان واپس دیا جا چکا تھا۔ علی اور حسن کی بات جیت بلکل بند تھی۔ علی نے خریدی ہوئی پرانی گاڑی بھی سیل کر دی تھی۔ حسن کی ماں نے اس کے لیے ایک میٹرک پاس خوبصورت ،لڑکی ڈھونڈ لی تھی ۔ انہوں نے اداسی سے حسن کو بتایا ۔باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن بہت غریب لوگ ہیں ۔ تمہیں جہیز میں کچھ بھی نہیں ملے گا۔ لڑکی کو وہ صرف تین کپڑوں میں ہی دیں گئے۔ جہاں بھی رشتہ ڈالو ہر کوئی کہتا ہے کہ لڑکا ایک تو پڑھا لکھا نہیں دوسرا اس کے پاس کوئی سرمایہ نہیں ۔ مزدور ہے اور وہ بھی چالیس کے لگ بھگ ۔ حسن نے اپنی ماں کی طرف نرمی سے دیکھا ۔ ہاں تو ٹھیک ہی تو کہتے ہیں ۔ خیر اگر آپ کو مناسب لگ رہا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔رزق روزی اللہ کی طرف سے ہے ۔ جو آئے گئی اپنی قسمت کا ساتھ لے آئے گی ۔ اس کی ماں مسکرائی ۔ ٹھیک ہے تو ہم نکاح اگلے سے اگلے جمعہ کو کریں گئے۔ ایک اچھا سا جوڑا سلوا لینا تم ۔ وہ لوگ ساتھ ہی رخصتی کر دیں گئے ۔ ان کی تین اور بھی بیٹیاں ہیں ۔ ان کا باپ رنگ کرتا ہے تو ۔ حسن نے کہا کوئی بات نہیں امی۔ سب ہو جائے گا۔ پرسوں پہلی ہے ڈبہ کھلے گا توبیس ہزار تک تو نکلیں ہی گئے میرے حصے کے۔ہر دفعہ بیس کے لگ بھگ تو بن ہی جاتے ہیں ۔ اس کی امی نے کہا ہاں اس بار تو مجھے کچھ نہ دے ۔اب علی بھی تو کام کرتا ہے ۔ وہ بھی تو کرئے نا کچھ۔حسن اب بھی کبھی کبھی دل میں اپنی خواہشوں کو جیتا ایک بڑی دوکان ہو جہاں پر وہ کچھ نوجوان میکنیک رکھ لے ۔دوکان میں گاڑی دھوئی جاتی ہوں ۔ٹھیک کی جاتی ہوں ۔ان کی ڈیل بھی کروائی جاتی ہو۔ وہ خود کو گلزار کی جگہ رکھ کر سوچتا لیکن اس کے پاس تو کوئی سرمایہ نہیں اس کے دل میں جیسے ہی یہ خیال آتا وہ آنکھیں کھول لیتا۔ اس پر افسردگی چھا جاتی۔ کاش اس کے پاس اس قدر سرمایا ہوتا۔ گلزار نے حسن کو فون کیا ۔ حسن نے جب فون اُٹھایا تو گلزار کی چیختی ہوئی آواز حسن کے کانوں سے ٹکرائی ۔یار تو تو لاکھ پتی بن گیا۔ گلزار نے پھر فوراً سے کہا کہیں پرائز بونڈ دے تو نہیں دیے تم نے۔ حسن نہیں میرے پاس ہی ہیں ۔ کیوں ۔ گلزار نے جوش سے کہا۔ پھر میٹھائی کھلواو ۔تمہارا تیس لاکھ کا انعام نکلا ہے۔ حسن کیا؟ گلزار۔ ارے تمہارا فسٹ پرائز نکل آیا ہے۔ میں نے پیپر ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے۔پندہ سو کے پرائز بونڈ دیکھ رہا تھا ۔ میرا تو کوئی بھی نہیں نکلا لیکن جہاں سے تمہارے شروع ہوتے تھے ۔ان میں سے نکلا ہے ۔ حسن الماری کے پاس گیا ۔پرائزبونڈ نکال کر دیکھے وہ پہلی بار انہیں رکھنے کے بعد دیکھ رہا تھا۔ پندرہ سو والے کچھ اور کچھ دو سو والے تھے۔ پورے دس ہزار کے پرائز بونڈ۔وہ حیرت کا مجسمہ بنے انہیں دیکھ رہا تھا۔ گلزار تم کال پر ہو ۔حسن دوکان آ جاو۔ ہاں میں آتا ہوں ۔ وہ پرائز بونڈ لے کر دوکان پہنچا۔وہ واقعی لاکھ پتی بن چکا تھا ۔ اللہ تعالی نے پل میں اس کی حالت بدل دی تھی۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا ۔اس نے میٹھائی لی اور گلزارکو کھلائی ۔مذید میٹھائی لے کر گھر آیا اور امی کو خوشخبری سنائی۔ امی نے خوشی سے حسن کا ماتھا چوم لیا۔ حسن بہت خوش تھا اب وہ اپنی دوکان لے کر اپنا کام شروع کر سکتا تھا ۔گلزار نے اسے یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ کچھ پیسے بینک میں جمع کروا دے اور کچھ کی دوکان لے ۔ شروعات تھوڑے تھوڑے سے کرئے ۔ حسن نے خوش دلی سے گلزار کے مشورے قبول کیے ۔حسن کی ماں اس کے پاس آئیں اور کہا حسن میں سوچ رہی ہوں ان لوگوں کو منع کر دوں ۔ حسن کن لوگوں کو کیا منع کرنا ہے۔ امی۔حسن کی امی نے کہا وہ ہی عرشیہ کے گھر والوں کو میرے لاکھ پتی بیٹے کے لیے تو لوگ ایم اے پڑھی لڑکی بھی خوشی خوشی دے دیں گئے۔ حسن مسکرایا اور بولا امی ۔آپ ایسا نہیں کریں گیں ۔ شاہد یہ سب عرشیہ کی قسمت سے ہی ہوا ہو۔ جیسے ہی آپ نے رشتہ طے کیا ۔تو میرا پرائز بونڈ نکل آیا۔ رشتوں اور پیسوں کو دور دور ہی رکھنا چاہیے۔ مجھے وہی لڑکی قبول ہے ۔جس نے مجھے میری غربت کے ساتھ قبول کیا۔ میں اپنی امیری میں اسے کیوں چھوڑ دوں۔ حسن کی ماں نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولی ۔ میں تو تمہارے لیے ہی کہہ رہی تھی ۔ مجھے لگا تم سوچو گئے ۔ماں کو میری پروا ہی نہیں ۔ایک غریب لڑکی میرے لیے چن دی۔حسن مسکرایا ۔ امی کوئی فقط پیسے سے امیر اور غریب نہیں ہوتا۔ امیر ہونے کے لیے اور بھی بہت سی چیزیں چاہیں ۔ حسن کی امی نے دھیرے سے کہا۔ حسن اپنے بھائی کو نہ چھوڑنا ۔ علی جیسا بھی ہے تمہارا چھوٹا بھائی ہے۔ حسن جی امی۔علی کو جب حسن کے پرائز بونڈ لگ جانے کا پتہ چلا تو اسے عجیب سا محسوس ہوا ۔ وہ سارا دن آفس میں کام نہیں کر پایا۔ اس کی بوس سے لڑائی ہوئی تو اس کو اس نے آفس سے دھکے دے کر نکال دیا۔علی افسردہ گھر لوٹا ۔اس کے پاس کوئی رقم نہ تھی ۔ اس نے شادی اور پھر شاہ خرچی کے باعث کچھ جمع بھی نہیں کیا تھا۔ حسن سے اس کی بات جیت بند تھی۔ اسے اپنی نوکری جانے کا اس قدر افسوس نہ تھا جس قدرافسوس حسن کے امیر ہو جانے کا ہو رہا تھا۔ اسے اپنے اندر کوئی کیڑا کاٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ ہمشہ میری پرانی شرٹ اور جوتے پہننے والا لاکھ پتی بن گیا اور میں دن رات محنت کرنے والا اپنی ڈگری کے ساتھ سڑ رہا ہوں وہ غصہ اور حسد کی آگ میں جل رہا تھا۔وہ کمرے میں چارپائی پر لیٹا تھا۔ امی کمرے میں آئیں ۔ علی بیٹا ،حسن کی کل شادی ہے ۔ تم بھی چلو گئے نا۔ علی میری زندگی برباد کر کے خود آباد ہونے جا رہا ہے۔امی نے حیرت سے علی کو دیکھا۔ بولیں ۔کیا کہہ رہے ہو ۔ تمہاری زندگی کہاں برباد کی ہے حسن نے وہ تو بے چارہ اس گھر کے لیے اِتنا کرتا رہا۔ تمہیں پرھایا۔ علی چیخا کوئی احسان کیا اس نے ۔ اپنے لیے بھی رکھتا رہا ہے نا۔ پرائز بونڈ مفت میں نہیں ملتے۔ حسن کمرے کے باہر کھڑا تھا ۔ وہ بھی علی کو راضی کرنے کے لیے اندر آنے والا تھا۔اس کے قدم وہاں چوکھٹ پر ہی رُک گئے۔ اس نے ہمت کر کے قدم اُٹھائے اور اندر آ گیا۔ بولا۔علی میں اپنے لیے جمع نہیں کرتا رہا۔ یہ تو وہی دس ہزار تھے جو تم نے لینے سے انکار کر دیا تھا۔ شاہد تمہاری ہی وجہ سے یہ پرائز بونڈ مجھ تک پہنچے ۔علی نے حسن کی طرف دیکھا۔ میں نے کہاں تمہاری زندگی برباد کی ہے ۔ پڑھے لکھے ہو ۔ مجھ سے ذیادہ خوش شکل ہو پھر سے شروعات کر سکتے ہو ۔ تمہیں مجھ سے اگر کوئی شکایت ہے تو بولو۔ علی چیخا شکایت ۔دفع ہو جاو یہاں سے ۔ تمہاری وجہ سے میں نے ستارہ کو طلاق دے دی۔ صرف تمہاری وجہ سے ۔ میں نے آفس میں لڑائی کر لی ۔ اس گھر میں تم رہو گئے یا میں۔ امی آپ اسے کہیں یہاں سےچلا جائے ۔ میں اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔ حسن کی انکھوں میں آنسو تھے ۔ وہ بولا میں ہمیشہ تمہارے جیسا بننا چاہتا تھا ۔ علی ۔ میں ہمیشہ تمہارے جیسا بننا چاہتا تھا۔ تمہارے جیسا لائق ۔خوش شکل ۔ ماں کا دُلارا۔ لیکن تم اپنے اندر اتنی کڑواہٹ رکھتے ہو تو مجھے تم جیسا نہیں بننا۔ ہاں میں چلا جاؤں گا یہاں سے۔ ضرور چلا جاوں گا۔حسن کی ماں چلائی ۔تو کیوں جائے گا۔ تو جو اس سے جیسا بننا چاہتا تھا اسے رشک کہتے ہیں ۔لیکن جو اس کو سر سے پاوں تک جلا رہا ہے اسے حسد کہتے ہیں ۔ بھائی کا امیر ہونا اس سے دیکھا نہیں جا رہا۔حسن امی میں تو اسے یہ کہنے آیا تھا کہ میرا سب کچھ ہم سب کا ہے۔ یہ مجھ سے راضی ہو جائے۔ مگر اس کے دل میں تو ذہر بھرا ہے۔ علی نے اپنی ماں اور بھائی کو روتے دیکھا تو وہ بھی رونے لگا ۔ پتہ نہیں کیوں ۔مگر جب سے مجھے پتہ چلا ہے ۔ تمہارا پرائز بونڈ نکلا ہے ۔مجھے لگ رہا ہے ۔میری ساری اہمیت ختم ہو گئی ۔ جیسے میں کچھ بھی نہیں ۔ ہاں یہی سچ ہے ۔ہاں مجھے تم سے حسد محسوس ہو رہا ہے ۔ میں کیا کروں میں بے اختیار ہو۔ وہ بچوں کی طرح رو رہا تھا ۔ حسن آگے بڑھا اس نے علی کو اپنی باہوں میں لے لیا اگر یہ بات ہے تو ہم پرائز بونڈ کی رقم آدھی آدھی کر لیتے ہیں ۔ میرے ساتھ چلو میں آدھی رقم تمہارے نام کر دوں گا۔ علی بچوں کی طرح پھوٹ بھوٹ کر رونے لگا۔حسن بس اب چپ کرو ۔ علی بس اب چپ کرو ۔ میری شادی ہو رہی ہے۔پھر اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ مزے کی بات بتاوں ۔ تمہاری بھابی کی تین بہنیں ہیں ۔ تم اپنی قسمت آزما لینا۔ علی کے چہرے پر ہنسی آ گئی ۔ امی دنوں کو دیکھ کر مسکرائیں ۔ حسن چلو جلدی سے بینک چلتے ہیں ۔ علی نہیں ۔ میں نہیں جاوں گا۔ مجھے معاف کر دو۔ کاش کہ میں تمہارے جیسا دل رکھتا ہوتا۔ حسن مسکرایا۔

loading...
>