ورلڈ کپ کا اصل فاتح کون؟ انگلینڈ یا نیوزی لینڈ؟ یا پھر مشترکہ فاتح؟ آئی سی سی گورننگ بورڈ کے اہم ترین اجلاس میں بڑا فیصلہ سنا دیا گیا

ورلڈ کپ کے فائنل میں سری لنکن ایمپائر دھرماسینا کی غلطی کی وجہ سے اوور تھرو پر ایک اضافی رن ملے اور وہی رن انگلینڈ کی فتح کا باعث بنا، اس سنسنی خیز فائنل مقابلے میں میچ برابر رہا تھا اور میچ کا فیصلہ سپر اوورز کے ذریعے کیا گیا تھا، جس میں بھی دونوں ٹیموں کا سکور برابر رہا لیکن زیادہ باؤنڈریز کی بنیاد پر انگلینڈ کو فاتح قرار دیا گیا تھا،بعد ازاں ایمپائر نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان سے غلطی ہو گئی۔ جس پر آئی سی سی سے مطالبہ کیا

جا رہا تھا کہ فائنل کا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے انگلینڈ سے ٹرافی واپس لی جائے، آئی سی سی کرکٹ گورننگ باڈی نے اس فائنل میں ایمپائر کی غلطی کو نظرانداز کر دیا ہے اور ایک رن دینے کی حمایت کی گئی ہے، آئی سی سی کا کہناہے کہ وہ ایمپائر دھرماسینا کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے، مزید کہناہے کہ ورلڈ کپ فائنل میں شدید دباؤ کے ماحول میں سری لنکن ایمپائر دھرماسینا نے بہترین ایمپائرنگ کی۔ اس طرح آئی سی سی نے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو مشترکہ ورلڈ کپ ٹرافی دینے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے، اب ورلڈ کپ کی ٹرافی اگلے چار سال تک انگلینڈ کے پاس ہی رہے گی اور انگلینڈ ہی 2019ء کے ورلڈ کپ کافاتح ہے۔ واضح رہے کہ سابق انٹرنیشنل کرکٹرز نے باؤنڈریز پر ٹیم کو فاتح قرار دینے کے قانون پر تنقید کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) سے قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا،سابق آسٹریلین کھلاڑی ڈین جونز نے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ بدقسمت رہا، آئی سی سی کو اپنے قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، سپر اوور برابر ہوا تھا تو ایک اور سپر اوور ہونا چاہیے تھا۔سابق بھارتی کھلاڑی گوتم گمبھیر نے دونوں ٹیموں کو فاتح قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ ورلڈ کپ فائنل کا فیصلہ باؤنڈری کاؤنٹ پر کرنا کسی صورت ٹھیک نہیں،بھارت کے سابق مایہ ناز آل راؤنڈر یووراج سنگھ نے بھی قوانین سے اتفاق نہیں کیا تھا

loading...
>